تمباکو نوشی اور قلبی نظام پر اثرات
پاکستان میں سالانہ 340,000 سے زائد اموات قلبی امراض سے ہوتی ہیں۔ تمباکو نوشی اور قلبی صحت کے درمیان تعلق کا تفصیلی جائزہ۔
مکمل مضمون پڑھیں ←پاکستان میں تقریباً 31 فیصد بالغ افراد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ یہاں آپ تمباکو نوشی کے طرز زندگی سے تعلق، عادات کی نوعیت اور ان سے جڑے عوامل کے بارے میں معلوماتی مواد پائیں گے۔
تمباکو، نکوٹین اور طرز زندگی سے متعلق تفصیلی تجزیے
پاکستان میں سالانہ 340,000 سے زائد اموات قلبی امراض سے ہوتی ہیں۔ تمباکو نوشی اور قلبی صحت کے درمیان تعلق کا تفصیلی جائزہ۔
مکمل مضمون پڑھیں ←
نکوٹین عارضی سکون دیتی ہے مگر طویل مدت میں بے چینی بڑھاتی ہے۔ 54.5 فیصد ڈپریشن کے مریض تمباکو استعمال کرتے ہیں۔
مکمل مضمون پڑھیں ←
حقہ کلچر پاکستان کے شہروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نوجوانوں میں اس رجحان کے عوامل اور اس سے جڑے پہلوؤں کا جائزہ۔
مکمل مضمون پڑھیں ←
پاکستان میں تمباکو نوشی کے رجحانات عمر، تعلیم اور معاشی حیثیت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ 45-49 سال کی عمر کے مردوں میں 15-19 سال کے مقابلے میں تمباکو نوشی کا امکان 5.78 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
تعلیم اور آمدنی میں اضافے کے ساتھ تمباکو نوشی کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں۔ خواتین میں پیشے کی نوعیت، ذرائع ابلاغ اور گھریلو ماحول بھی اہم عوامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور مقامی تحقیقات سے حاصل کردہ اعداد و شمار
شمال مغربی پاکستان میں نسوار کا وسیع استعمال ہے۔ 20 سال سے زیادہ عرصے تک نسوار استعمال کرنے والوں میں قلبی شریان کی بیماری کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ ہر 5 منٹ سے زائد نسوار رکھنا خطرے کو مزید بڑھاتا ہے۔
85.86 فیصد شرکاء نے بے دھواں تمباکو مصنوعات کے بارے میں سنا تھا۔ 72.55 فیصد لوگ جانتے ہیں کہ یہ سنگین بیماری کا سبب بن سکتا ہے، مگر 30 فیصد لوگوں کو اس کی قانونی حیثیت کا علم نہیں۔
پاکستان صرف 5 سال میں نکوٹین پاؤچز کی تیسری سب سے بڑی مارکیٹ بن گیا ہے۔ ویلو برانڈ کی قیمت تقریباً 133 روپے (0.44 امریکی ڈالر) ہے، جو نوجوانوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہے۔
مردوں اور خواتین دونوں میں عمر کے ساتھ تمباکو نوشی بڑھتی ہے، مگر خواتین میں گھریلو تشدد اور ذرائع ابلاغ کا اثر خاص طور پر نمایاں ہے۔ تعلیم دونوں صنفوں میں تمباکو نوشی کے خلاف حفاظتی عنصر ثابت ہوتی ہے۔
تمباکو نوشی اکثر مخصوص حالات سے جڑی ہوتی ہے — ذہنی دباؤ، سماجی ماحول، چائے یا کھانے کے بعد کا وقت۔ ان محرکات کی شناخت عادت کو سمجھنے کا پہلا قدم ہے۔
ماہرین کے مطابق 10 منٹ کی تاخیر، گہری سانسیں، جسمانی حرکت یا کسی سے بات کرنا — یہ سب طریقے عارضی خواہش کو کمزور کر سکتے ہیں۔ مگر ہر فرد کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔
دستبرداری: اس ویب سائٹ پر موجود تمام مواد صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ یہ کسی طبی مشورے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔ بیرونی لنکس تیسرے فریق کی ویب سائٹس کی طرف لے جاتے ہیں جن پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔